جب بھی کسی اسٹریٹ
لیول منشیات فروش کی
گرفتاری کی خبر
سامنے آتی ہے تو
عوام کا ردِعمل
تقریباً ایک جیسا ہوتا
ہے۔ لوگوں کو
وقتی اطمینان محسوس ہوتا
ہے، ٹی وی
اسکرینوں پر “بڑی کامیابی”
کے دعوے چلنے
لگتے ہیں، اور کچھ
لمحوں کے لیے
ایسا لگتا ہے جیسے
منشیات کے خلاف
جنگ میں کوئی
حقیقی پیش رفت ہوئی
ہو۔ حال ہی
میں پنکی نامی
ایک ڈرگ ڈیلر
کی گرفتاری کو
بھی اسی انداز
میں پیش کیا
گیا۔ لیکن اگر اس
پورے معاملے کو سپلائی
چین مینجمنٹ کے
زاویے سے دیکھا
جائے تو تصویر
بالکل مختلف نظر آتی
ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بڑا نیٹ ورک ختم نہیں ہوا،
صرف ایک بہت بڑی چین کے آخری اور سب سے نمایاں حصے کو ہٹایا گیا ہے۔
اکثر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ سپلائی چین کے اصول
صرف بڑی کمپنیوں یا قانونی کاروباروں تک محدود نہیں ہوتے۔ چاہے کوئی صنعت بسکٹ،
موبائل فون یا کاسمیٹکس فروخت کر رہی ہو یا غیرقانونی منشیات، ہر نظام ایک ہی
بنیادی ڈھانچے پر چلتا ہے: سورسنگ، مینوفیکچرنگ، ٹرانسپورٹیشن، ویئر ہاؤسنگ، ڈسٹری
بیوشن، ریٹیلنگ اور آخر میں آخری صارف تک ڈیلیوری۔
سپلائی چین کی زبان میں دیکھا جائے تو پنکی دراصل
اس پوری چین کا آخری سرا تھا، یعنی وہ ریٹیل پوائنٹ جہاں گاہک کو منشیات فراہم کی
جاتی تھیں۔ میکرو لیول پر ہر سپلائی چین دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے: اپ اسٹریم اور
ڈاؤن اسٹریم۔ اپ اسٹریم سپلائر سے مینوفیکچرر تک جاتا ہے جبکہ ڈاؤن اسٹریم
مینوفیکچرر سے آخری صارف تک۔ معاشرہ عموماً صرف ڈاؤن اسٹریم حصہ دیکھتا ہے: اسٹریٹ
ڈیلرز، چھوٹے ریٹیلرز، ڈلیوری بوائز اور مقامی سپلائرز۔ یہ دراصل درخت کی شاخیں
ہیں، جبکہ جڑیں اپ اسٹریم میں موجود ہوتی ہیں: پیداوار، پروسیسنگ، بڑی سطح پر نقل
و حرکت، مالی معاونت، ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس اور تحفظ فراہم کرنے والے عناصر۔
اسی لیے ایک ریٹیلر کو گرفتار کرنے سے نظام میں
کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آتی۔ جیسے ہی ایک شخص ہٹتا ہے، دوسرا اس کی جگہ لے لیتا
ہے کیونکہ پورا بڑا نیٹ ورک بدستور فعال رہتا ہے۔ سپلائی کا بہاؤ رکتا نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ منشیات کا یہ نیٹ ورک انہی
سپلائی چین اسٹریٹجیز پر چلتا دکھائی دیتا ہے جو بزنس اسکولز میں پڑھائی جاتی ہیں۔
کاروباری دنیا میں عمومی طور پر تین ماڈلز ہوتے ہیں۔ پہلا پُش اسٹریٹجی، جس میں
مستقبل کی متوقع ڈیمانڈ کو دیکھتے ہوئے پہلے سے پیداوار کی جاتی ہے، جیسے بسکٹ یا
پیکجڈ فوڈ انڈسٹری۔ دوسرا پُل اسٹریٹجی، جس میں اصل کسٹمر آرڈر آنے کے بعد پیداوار
شروع ہوتی ہے، جیسے ٹیلر میڈ سوٹنگ۔ جبکہ تیسرا ماڈل پوسٹ پونمنٹ اسٹریٹجی کہلاتا
ہے، جس میں بنیادی پراڈکٹ پہلے سے تیار ہوتی ہے مگر آخری تقسیم یا کسٹمائزیشن اصل
طلب سامنے آنے کے بعد کی جاتی ہے
سپلائی چین کے چار
بنیادی سائیکلز بھی اس
پورے نیٹ ورک میں
واضح نظر آتے ہیں۔
سب سے پہلے
کسٹمر آرڈر سائیکل جہاں
صارفین مسلسل ڈیمانڈ پیدا
کرتے ہیں۔ اس کے
بعد ریپلینشمنٹ سائیکل
جہاں ریٹیلرز دوبارہ مال
حاصل کرتے ہیں۔ پھر
مینوفیکچرنگ سائیکل آتا ہے
جہاں اوپر کی سطح
پر پروسیسنگ اور
تیاری ہوتی ہے، اور
آخر میں پروکیورمنٹ
سائیکل جس میں
خام مال یا
منشیات کی فراہمی
اور نقل و
حرکت شامل ہوتی ہے۔
جب تک یہ
چاروں سائیکلز فعال رہیں
گے، صرف ریٹیل
سطح پر گرفتاریاں
پورے نظام کو ختم
نہیں کر سکتیں۔
سپلائی
چین کا ایک اور اہم اصول یہ ہے کہ ہمیشہ مینوفیکچرر سب سے طاقتور نہیں ہوتا۔ اکثر
اصل طاقت ڈسٹری بیوٹر کے پاس ہوتی ہے۔ جدید ریٹیل دنیا میں وال مارٹ جیسی کمپنیاں
پراکٹر اینڈ گیمبل یا یونی لیور جیسے مینوفیکچررز پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں کیونکہ
مارکیٹ تک رسائی کے راستے انہی کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ یہی منطق یہاں بھی لاگو
ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اسٹریٹ لیول ڈیلرز بدل سکتے ہیں، مگر اصل طاقت ان ڈسٹری
بیوٹرز اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کے پاس ہوتی ہے جو پورے سپلائی فلو کو کنٹرول کرتے
ہیں۔
پاکستان میں منشیات بنیادی طور پر افغانستان سے آتی ہیں۔ تاہم، بلوچستان کے جغرافیے اور دشوار گزار علاقوں کو دیکھتے ہوئے مقامی سطح پر محدود پیداوار کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہاں کی آب و ہوا افیون پوست کی کاشت کے لیے موزوں ہے،
کسی بھی سپلائی چین کی جان اس کا ٹرانسپورٹ سسٹم ہوتا ہے، اور پاکستان میں بظاہر روڈ نیٹ ورک اس تجارت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، خاص طور پر افغانستان اور بلوچستان سے جڑے راستے۔ اگر کوئٹہ ایک بڑا کنسولیڈیشن حب ہے تو کراچی اس کا اہم ڈاؤن اسٹریم مارکیٹ بن جاتا ہے۔ مسافر بسوں، کمپرومائزڈ چیک پوسٹس، سیاسی سرپرستی اور مختلف اداروں میں موجود سہولت کاری کے الزامات ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: اتنا بڑا نیٹ ورک صرف اسٹریٹ لیول آپریٹرز کے سہارے نہیں چل سکتا، اس کے لیے منظم ہم آہنگی درکار ہوتی ہے۔
منشیات فروش مبینہ طور پر مختلف اداروں کے بااثر افراد کو بھاری رشوت دیتے ہیں تاکہ کوئی سرکاری ادارہ ان کے خلاف کارروائی نہ کرے۔ اگر کوئی ایماندار اور محب وطن افسر، جس کا کام ان سرگرمیوں کو روکنا ہے، رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے تو پہلے اسے دھمکایا جاتا ہے، اور اگر مسئلہ برقرار رہے تو ایسے افسران کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ ایسے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں ایماندار افسران کو اپنے دفاتر میں ڈیوٹی کے دوران قتل کر دیا گیا۔ ان طاقتور منشیات فروشوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں خوف کی ایسی فضا قائم کر دی ہے کہ جو بھی سپلائی میں رکاوٹ ڈالے، اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کوئٹہ سے نجی مسافر بسوں کے ذریعے، جو مبینہ طور پر منشیات فروشوں کی ملکیت ہوتی ہیں یا ان کے شراکت داروں کی، حب بلوچستان تک پہنچائی جاتی ہیں، اور راستے میں کسٹمز، اینٹی نارکوٹکس، رینجرز اور پولیس کی چیک پوسٹس عبور کرتی ہیں۔
جب یہ کھیپ حب بلوچستان میں اتاری جاتی ہے تو وہاں کراس ڈاکنگ کی جاتی ہے، یعنی بڑی کھیپ کو چھوٹی مقداروں میں تقسیم کرکے کراچی کی طلب کے مطابق روانہ کیا جاتا ہے۔
اس مرحلے پر پولیس کا کردار سامنے آتا ہے۔ بعض اسٹیشن ہاؤس آفیسر اتنے بااثر سمجھے جاتے ہیں کہ وہ آئی جی سندھ پولیس سے بھی زیادہ طاقت رکھتے ہیں، کیونکہ انہیں سیاسی بنیادوں پر تعینات کیا جاتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں کالے دھن کی بڑی مقدار پیدا ہوتی ہے۔ کراچی میں ان منشیات کی ریٹیلنگ مبینہ طور پر بااثر سیاسی شخصیات کے زیرِ اثر ہوتی ہے اور انہیں سیاسی طور پر تعینات پولیس افسران کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔
لیکن صرف سپلائی پوری کہانی نہیں ہوتی۔ کوئی بھی سپلائی چین ڈیمانڈ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ کراچی میں بڑھتی ہوئی منشیات کی لعنت کو شہر کے معاشی اور سماجی بحران سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے،
مہنگائی نے گھروں کو دبا دیا ہے، خاندانی نظام کمزور ہو رہے ہیں، اور نوجوان ذہنی دباؤ، بے یقینی اور تنہائی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ جب ڈیمانڈ مسلسل بڑھتی ہے تو سپلائی نیٹ ورکس بھی زیادہ مضبوط، منظم اور جارحانہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔
کراچی کو منظم انداز میں تباہ کیا جا رہا ہے، اور گزشتہ چند برسوں میں منشیات، خصوصاً ہیروئن اور آئس، کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ان منشیات کی سپلائی اس قدر عام ہو چکی ہے کہ بعض اوقات ضروری دوائیں ملنا مشکل ہو جاتا ہے، لیکن یہ منشیات آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں، خاص طور پر اردو بولنے والے علاقوں میں۔ ذاتی طور پر میں نے اپنے اردگرد اتنی بڑی تعداد میں منشیات کے عادی افراد پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ ان میں زیادہ تر نوجوان لڑکے ہیں جن کی عمریں 18 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔
شہر میں بے روزگاری اور مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ سماجی ڈھانچہ بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ طلاق اب ایک عام بات بنتی جا رہی ہے، اور ٹوٹے ہوئے خاندان منشیات کے عادی افراد میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار مسائل ہیں جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے، لیکن حکومت کی ترجیحات کچھ اور دکھائی دیتی ہیں۔
آخر میں، اصل مسئلہ سپلائی چین کے آخری حصے یعنی پنکی جیسے ریٹیلرز نہیں، جو صرف آخری صارف تک منشیات پہنچاتے ہیں۔ اصل مسئلہ سپلائی چین کے اپ اسٹریم حصے میں ہے، جہاں پروکیورمنٹ، ٹرانسپورٹیشن، ڈسٹری بیوشن اور تحفظ فراہم کرنے والے نیٹ ورکس موجود ہیں۔ جب تک ان جڑوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، اور پرائمری سیلز (مینوفیکچرر سے ڈسٹری بیوٹر) کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، تو پھر سیکنڈری سیلز (یعنی ڈسٹری بیوٹر سے ریٹیلر تک سپلائی) خود ہی ختم ہو جائے گی۔ ورنہ ڈاؤن اسٹریم ریٹیلنگ بار بار دوبارہ کھڑی ہوتی رہے گی۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس پورے نظام کے خلاف حقیقی قدم اٹھانے کی ہمت کون کرے گا؟