اگر آپ ایک دیواور ایک بچے کو دیکھیں تو آپ کہیں گے کہ دیو زیادہ طاقتور ہے۔
ہمیں اسی طرح سوچنے کی عادت ڈالی گئی ہے۔ بڑا قد۔ زیادہ پیسہ۔ بڑی طاقت۔
لیکن اصل طاقت ہمیشہ ایک شخص کے پاس نہیں رہتی۔
طاقت چلتی رہتی ہے۔ وقت اور جگہ کے ساتھ روپ بدل لیتی ہے۔
کاروبار میں چھوٹی اسٹارٹ اپ کمپنیاں بڑی کمپنیوں کو ہرا دیتی ہیں۔
سیاست میں ایک چھوٹی غلطی مضبوط کیریئر ختم کر دیتی ہے۔
میٹنگ میں ایک خاموش جملہ پورا ماحول بدل سکتا ہے۔
لہٰذا طاقت اس بات پر نہیں کہ کون بڑا ہے۔
طاقت اس بات پر ہے کہ کون لمحے کے مطابق بہتر ہے۔
(It is Relational) طاقت کوئی چیز نہیں جو آپ کے پاس ہو - یہ تعلق پر مبنی ہے
بہت سے لیڈر سمجھتے ہیں کہ طاقت کوئی چیز ہے جو ان کے پاس ہے۔ جیسے عہدہ۔ یا بڑا دفتر۔ یا بھرا ہوا بینک اکاؤنٹ۔
یہ غلط ہے۔
طاقت حالات پر منحصر ہوتی ہے۔
غلط جگہ پر دیو بھی کمزور ہوتا ہے۔
صحیح جگہ پر بچہ بھی مضبوط ہو سکتا ہے۔
ایک چھوٹا مچھر جان لیوا بن سکتا ہے۔
ایک شخص بڑے ہاتھی کو قابو میں لا کر اسے بہترین ساتھی بنا سکتا ہے۔
ان کے قد یا جسامت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
حالات بدل گئے۔
میں نے اعلیٰ عہدے کے سرکاری افسران دیکھے ہیں۔
وہ کمرے میں داخل ہوتے تو لوگ کھڑے ہو جاتے تھے۔
لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد،اس دفترکے سیکیورٹی گارڈ تو دور کی بات، ان کی گلی کے کتے بھی انہیں نہیں پہچانتے ۔